نئی دہلی2 دسمبر (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) کانگریس صدر راہل گاندھی کا پی ایم مودی کے ہندوتو پر سوال کے بعد مرکزی وزیر سشما سوراج نے ان پر جم کر ہلہ بولا ہے۔ وزیرخارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ کیا اب راہل گاندھی سے ہمیں ہندو ہونے کا مطلب سیکھنا چاہیے ۔واضح ہو کہ ادے پور میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ پی ایم مودی کسی کی نہیں سنتے وہ کیسے ہندو ہیں ۔سشما سوراج نے راہل گاندھی کے بیان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی اور کانگریس کارکن ان کے مذہب کو لے کر شبہ میں ہیں۔برسوں تک پارٹی نے انہیں ایک سکیولررہنما کے طور پر پیش کیا لیکن جب انتخابات قریب دیکھا اور انہیں لگا کہ ہندو اکثریتی ہیں تو انہوں نے یہ شبیہ پیدا کرلی ۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بیان آیا ہے کہ وہ’ جنیودھاری‘ ہندو ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ’ جنیودھاری‘ برہمن کے علم میں اس قدر اضافہ ہوگیاکہ ہندو ہونے کا مطلب ابھی ہمیں ان سے سمجھنا ہوگا۔ ’بھگوان ‘ نہ کرے وہ دن آئے جب راہل گاندھی سے ہمیں ہندو ہونے کا مطلب سمجھنا پڑے۔ سشما سوراج نے مزید کہا کہ کانگریس میں اعتماد کی کمی ہے۔کانگریس پارٹی کے کارکن تذبذب اور بیچارگی کے شکار ہیں ۔کانگریس پارٹی ریاستی انتخابات میں ہارنے والی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کانگریس اپنے کام کا حساب دے ۔سشما سوراج کے علاوہ مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے بھی کانگریس صدر پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ’ کنفیوژڈ‘گاندھی ہیں اور ہمیشہ سیاسی وجوہات سے ہندوتو کا اپیرنس بدلتے رہتے ہیں نہ کہ وعدوں سے۔وہ وعدوں سے نہیں بلکہ سیاسی وجوہات کے ہندوہیں۔ واضح ہو کہ آج کانگریس صدر راہل گاندھی نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی تعریف کی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہندو ہیں لیکن وہ ہندوتو کی بنیاد کو نہیں سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کہ صرف میرے پاس ’’گیان‘‘ ہے۔ وہ کہتے ہیں میں ہندو ہوں اور جو ہندوتو کی بنیاد ہے وہ اس کونہیں سمجھتے ہیں، کس قسم کے ہندو ہیں۔راہل گاندھی نے مزید کہا کہ یہی فرق اور تضاد ہے۔ میں نے اٹل بہاری کو دیکھا ہے۔ ہماری اور ان کی سیاسی جنگ تھی لیکن ان کی زبان، ان کے طریقۂ کار ان سے الگ تھے ۔ ہم ان سے سیاسی طور پر غیرمتفق تھے، ہماری سیاسی جنگ بھی تھی لیکن ان کی غیرمتنازع’’ شخصیت ‘‘ تھی ۔